Showing posts with label Gen. raheel sharif. Show all posts
Showing posts with label Gen. raheel sharif. Show all posts

Thursday, August 28, 2014

چڑیا سے باز کا شکار



اے حقیقتِ منتظِر:  
از : خُرم اقبال اعوان
چڑیا سے باز کا شکار
اللہ کا لاکھ لاکھ شکرکہ آزادی و انقلاب مارچ خیرو آفیت سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہا اور اپنے پڑاؤ کے مقام پرنہ صرف پہنچا بلکہ ایک نئ منزل کا تعین کرتے ہوے پارلیمنٹ ہاوس کے باہر جا پہنچا۔ اب کچھ جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہوا کیا تھا، نوبت یہاں تک کیوں آئی اور ہونا کیا چاہیے تھا؟ آگے کیا ہونے کے امکانات ہیں ؟ اور کیا ہونا چاہئے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ابھی تک حزبِ اقتدار اورحزبِ اختلاف والوں کی سیاسی نا فہمیاں کہاں کہاں تھیں اور اُن سے کیا اثرات مرتب ہوے۔
حزب اقتدار سے شروعات کرتے ہیں کہ انہوں نے اس ایشو کو کبھی قابل توجہ ہی نہ سمجھا اور عمران خان اور طاہر القادری کی ہر بات کو باقاعدہ مذاق میں اڑا دیا گیا۔ اور جب طاہر القادری صاحب نے پاکستان آنے کا صرف اعلان کیا اور جیسا رد عمل قادری صاحب  کے آنے کا اعلان سن کر حکومت کی جانب سے کیا گیا اُس کا نتیجہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شکل میں سامنے آیا۔ اِس کے بعد جب قادری صاحب اسلام آباد آنے لگے تو حکومت نے اِسے بھی اپنے لئے خطرہ جانا، اور ان کے طیارے کا رخ لاہور کی جانب موڑ دیا گیا جو کہ ایک عام پاکستانی شہری اور مسافر کے حقوق کی سراسر خلاف ورزی تھی، اور پھر گورنر عشرت العباد میدان میں سامنے آئے اور انہوں نے گورنر پنجاب کو ساتھ ملایا اور قادری صاحب کو منا کر ماڈل ٹاؤن کی جانب روانہ کر دیا گیا۔
 کیونکہ حکومت نے ایک کمزوری کا اظہار کر دیا کہ وہ اسلام آباد میں آنے کے نام سے ہی خوفزدہ ہو جاتی ہے، اور پھر قادری صاحب کے طیارہ کو موڑ کر اِسے اور تقویت دی گئ۔ پھر بھی حکومت کی کیا کہیں کہ ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی بلکہ اس میں کئے گئے بلند و بانگ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے وزیر اعلٰی صاحب نے کہا کہ اگر حکومت کو قصور وار ٹھہرایا گیا تو میں اسی وقت استعفی دے دوں گا مگر ہوا کچھ برعکس۔ اسی طرح میاں محمد نواز شریف صاحب سے اس دور اقتدار میں وعدہ خلافی  کی بہت سی شکایات ہیں جیسے مشرف کا معاملہ ہوا ، کیانی صاحب کا معاملہ جس میں انہیں جوائنٹ چیف آف آرمی سٹاف بنانا تھا اور ان کے کردار کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے زیادہ اہم بنانا تھا۔
شمالی وزیرستان میں آپریشن کی راہ میں مذاکرات جیسی رکاوٹ ڈالنا یہ سب باتیں وہ تھیں جو وعدہ خلافی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اپنے ملک میں جس بات کا خیال رکھنا ہے اور وہ ہیں ہماری روایات جو کہ ہماری پہچان ہیں۔ جن میں زبان کا پاس رکھنا بھی ایک اہم امر ہے مگر ان سب باتوں کو پس پشت ڈالا گیا جو کہ میاں نواز شریف کا کبھی خاصہ نہیںتھیں مگر شاید جلاوطنی نے ان میں یہ ایک سیاسی  تبدیلی پیدا کی ہے جو کہ منفی ہے۔
اسی طرح اقتدار میں آکر اپنے ہی لوگوں اور اپنی ہی پارٹی پر اعتماد کا نہ ہونا، اختیارات کو اپنے اور اپنے خاندان سے باہر نہ جانے دینا۔ میرا یہ خیال تھا کہ جلاوطنی ان کو سیاسی طور پر بالغ کر دے گی مگر ان کے اطوار نے بتا دیا کہ وہ 80 اور 90 کی دہائی سے ہی باہر نہیں آئے۔ جہاں سیاسی مخالفوں کو ڈرا دھمکا کر، پیسے کا لالچ دے کر منا لیا جاتا تھا اور جو نہیں مانتا تھا وہ جان سے جاتا تھا۔
اس تمام تناظر میں مجھے سابق صدر آصف علی زرداری بار بار یاد آرہے ہیں جنہوں نے سیاست کو اپنے حساب سے ایک نیا رخ دیا اور اس کو مفاہمتی سیاست کا نام دیا۔ زرداری صاحب نے یہ روایت ڈالی کہ اس سے پہلے کہ خطرہ آپ کی طرف آئے وہ خود خطرے سے مل لیتے تھےاور اسے تحلیل کر دیتے تھے۔ چاہے بلوچستان کی جانب سے آواز اٹھے یا پنجاب سے آواز اٹھے،  زرداری صاحب  ہمہ وقت بات کرنے اور وہاں پہنچنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ طاہر القادری صاحب  نے جب ان کے خلاف مارچ کیا تو رحمان ملک نے اس مارچ سے نمٹنے کے لئے سرکوبی کی سیاست کا انتخاب کیا مگر زرداری صاحب نے تحمل اوربرداشت کا مظاہرہ کیااور آنے والوں کے لئے راستہ کشادہ کرتے گئے۔ جس سے وہ مارچ آسانی سے تحلیل ہو گیا پھر زرداری صاحب نے بلا خوف و خطر مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے صدر کے اختیارات واپس کر دئے اور مفاہمتی سیاست کے ذریعے سب کو کار سرکار میں شامل رکھا۔ اختیارات کے بٹنے سے وہ میاں صاحب کی طرح پریشان نہیں ہوئے اور اعتماد کی فضا کو تقویت دینے کی کوشش کی۔
ایک اور چیز جس میں نواز شریف صاحب کو قحط کا سامنا ہے وہ ہیں ان کے مشیر، نواز شریف صاحب کے لئے اپنا ہی خاندان سب کچھ ہے اور ان کو اپنی پارٹی کے باقی لوگوں پر اعتماد نہیں انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کے لئے ایک عام ممبر قومی اسمبلی کی وہی حیثیت ہے جو زیادہ تر ممبر قومی اسمبلی کی نظر میں ووٹر کی حیثیت ہے ۔ یعنی اسے بھی صرف اسمبلی میں وزیراعظم اور وزیر اعلٰی کو منتخب کرنے کے لئے رکھا گیا ہے ۔
ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو کس طرح ساتھ لے کر چلنا ہے اس میں بھی ن لیگ ناکام رہی۔ انہوں نے جو چال چلی کہ ایک میڈیا ہاؤس پر فوکس کریں اسے ساتھ لے کر چلیں اور وہ ایک لیڈنگ میڈیا ہاؤس بھی ہو تاکہ باقی سب اس کے پیچھے چلیں مگر افسوس کہ جو ہوا وہ بھی سب نے دیکھا۔ اس بات کا اعتراف اور بر ملا اعتراف ن لیگ کے ایک پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے وزیر نے اسلام آباد میں ملاقات میں افسوس کرتے ہوئے کہا کہ "ہماری میڈیا ہینڈلنگ فیل ہو گئی ہے" ۔ ان وزیر صاحب کا نام نہیں بتاؤں گا کیونکہ ان کا وژن بہت ہے اور وہ بہت قریبی بھی ہیں نواز شریف صاحب ۔ جبکہ اگر آپ پیپلز پارٹی کا دور دیکھیں تو ہر چینل نے قسم کھا رکھی تھی کہ ان کو ، شرمندہ اور معافی کے ساتھ ایک لفظ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ ذلیل کرنا ہے، مگر مجال ہے کہ پیپلز پارٹی کے لوگ اپنی پارٹی اور اس کی پالیسی کے دفاع کے لئے نہ آئیں وہ ہر وقت ہر جگہ دستیاب ہوتے تھے ان کے مقابلے میں ن لیگ والے کافی مرتبہ میڈیا سے دوری اختیار کر چکے ہیں۔ اورخلوت میں یہ باتیں کہہ چکے ہیں کہ اگر ہم پالیسی بنانے میں شامل نہیں تو اس کا دفاع کیوں کریں ۔ یہ وہ ایک سال کی چند بڑی بڑی غلطیاں ہیں جو کہ ن لیگ سے ہوئیں اور آج جو حالات ہیں وہ ان کی وجہ سے ہیں۔
اب چلتے ہیں عمران خان صاحب کی جانب تو ان کا تو میں 14 اگست والے مارچ سے شروع کرتا ہوں ۔ پہلے 14 اگست والے دن میں خود زمان پارک میں تھا ان کے دعوے کے بر خلاف لوگ ان کے ساتھ نہ ہونے کے برابر تھے مجھے تو سڑک پر(نہر کے ساتھ) چند خالی چند بھری ہوئیں بسیں نظر آئیں اور ان میں سب سے زیادہ میڈیا کی گاڑیاں تھیں۔ پھر کچھ لوگ اکٹھے ہوئے اور خان صاحب باہر نکلے یہاں ان کا گراؤنڈ ورک کمزور ہو گیا اور ان کی سب سے بڑی طاقت انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن نے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کچھ کام نہ کیا یا اِن سے کچھ کام نہیں لیا گیا۔ دوسری غلطی اور کمی ان کی لیڈر شپ خصوصیات  میں نظر آئیں وہ یہ کہ جب گوجرانوالہ میں حملہ ہوا تو خان صاحب کا کنٹینرتو بلٹ پروف تھا  وہ تو چند اینٹوں اور روڑوں سے ڈر گئے اور کنٹینر سے اتر کر دوسری گاڑی میں جس قدر ہو سکتا تھا تیز بھاگ کھڑے ہوئے جو کہ ایک لیڈرکے شایان شان نہیں۔ اس کے بعد خان صاحب اسلام آباد میں تقریر کے لئے تشریف لائے ،اسلام آباد میں داخل ہونے پر اپنے آپ پر حملہ ہونے کا اعلان کیا اور بتایا کہ" یہ بات انہیں ایک حکومتی خط کے ذریعے بتائی گئی ہے کہ پنجابی طالبان آپ پر حملہ کر سکتے ہیں "۔ مزید کہا کہ میں شہادت سے ڈرتا نہیں ہوں اگر میرے مرنے سے مسئلہ ہوتا ہے تو مجھے مار لو مگر خان صاحب جب بھی آپ جلسے میں آئے بلٹ پروف جیکٹ زیب تن کر رکھی تھی جو کہ ایک کم عقل کو بھی نظر آرہی تھی۔ چوتھی غلطی عمران خان صاحب نے یہ کی کہ اس رات بنی گالا میں جا کر آرام کیا اوراپنے ورکرز کو بغیر لیڈر کے چھوڑدیا۔ نہ صرف خان صاحب بلکہ باقی تمام لیڈر شپ بھی سرینا اور شیرٹن میں ٹھہری ہوئی تھی۔ اور جن کا کوئی نہیں تھا وہ بیچارے جن میں مرد و خواتین دونوں شامل تھے جلسہ گاہ میں رسوا ہو رہے تھے۔  پانچویں غلطی سول نافرمانی کی تحریک کی کال تھی خان صاحب اور ان کے سوشل میڈیا کے ہاکس سے ادب سے عرض کرتا ہوں کہ جناب آپ نہ تو 10 لاکھ لوگ اکٹھے کر سکے اور نہ ہی آپ قادری صاحب کے دھرنے کی طرح منظم تھے جناب سول نا فرمانی کے لئے آپ کو دھرنا ختم کرنا پڑے گا اور گھر گھر جا کر مہم چلانا پڑے گی اور اس کام میں اگر کوئی سب سے زیادہ مؤثر ہے تو وہ جماعت اسلامی  جیسی جماعت ہے یا پھر قادری صاحب اور پیپلز پارٹی اور ن لیگ بھی کر سکتے ہیں مگر آپ کے لئے ممکن نہیں۔ آپ کی دھرنے کی کارکردگی سے اس سول نافرمانی والی کال نے خان صاحب کے لئے کافی مشکلات کھڑی کر دی تھیں۔ جس کے لئے انہوں نے پھر ایک سیاسی پینترا کھیلا اور وہ تھا استعفوں والا اور ریڈ زون کی جانب جانا یہ دونوں سیاسی کارڈز بالکل ٹھیک ہیں اور آئین کے مطابق ہیں۔  جو سیاسی ہلچل آئین کے مطابق ہو اسے کھلے ذہن اور دل کے ساتھ ہونے دیں یہ سیاست کی خوبصورتی ہے اور معاشرے میں اس سے سیاسی بالغ پن آئے گا۔
 حکومت نے ریڈ زون کی حفاظت فوج کے حوالے کر دی، جبکہ وزیراعظم فوج کے کمانڈر کو بلانے کی بجائے سیاسی لوگوں کو بلاتے اور اُن کو بھیجتے اور اس مسئلے کے سیاسی حل پر زور رکھتے تو زیادہ بہتر ہوتا کیونکہ آپ انقلاب مارچ اور آزادی مارچ والوں کو سیاست کرنے کی دہائی دے رہے ہیں مگر خود فوج کو بلا کر اپنی سوچ کا پتہ دے رہے ہیں ۔ فوج ایک سیاسی معاشرے میں آخری حربہ ہوتی ہے چاہے اسے اپوزیشن کال کرے یا حکومت ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ ہار چکے ہیں باقی سب حربے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی یاد دلانا چاہوں گا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت تو دلیل والوں کے ساتھ ہے نہ کے غلیل والوں کے ساتھ پھر غلیل والوں کو یاد کرنا کچھ عجب نہیں۔ 
اب ایک اور منظر نامہ دیکھتے ہیں اگر آزادی مارچ اور انقلاب مارچ دونوں کو آرام سے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کی جگہ دے دی جاتی ہے اور کوئی مزاحمت نہیں کی جاتی تو کیا ہوسکتا ہے؟ جناب اگر ایسا ہوتا ہے تو مجھے چشم تخیل سے یہ نظر آرہا ہے کہ تمام ملک میں بالخصوص تمام بڑے شہروں میں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے دھرنے دے دئیے جائیں گے اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ اور صوبائی نظام زندگی بھی درہم برہم کیا جائے گا، جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور مکاتبِ فکر بھی شامل ہو جائیں گے۔ تو نواز شریف صاحب کے پاس تین راستے ہیں یا تو بھاگ جائیں، یا لڑیں، یا وہ جہاں ہیں کھڑے کھڑے مرنے کے لئے تیار رہیں اب یہ حل کیوں ہیں؟ جناب آپ مشرف کا فیصلہ نہیں کر رہے اور اسی معاملے میں آپ فوج کا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ فوج کی ایک بات بہت اچھی ہے کہ اگر آپ فوج کو یقین دلانے میں کامیاب ہو جائیں کہ آپ ان کے دوست ہیں تو وہ آپ کے ساتھ ہیں اور اگر انہیں یہ بات کھٹک جائے کہ آپ ان کے خلاف ہیں اور خطرہ ہیں تو وہ آپ کے دوست نہیں رہتے۔ یہ ایک خطرناک صورت حال ہوتی ہے میاں صاحب آپ نے وہی کیا، آپ نے ان کے سابق کمانڈر کو پکڑ کر رکھا ہوا ہے ۔ جناب آپ کو دلیری سے فیصلہ کرنا ہے اگر آپ اس حالت سے نکلنا چاہتے ہیں تو   دو کام نہایت تیزی سے کرنے چاہئے یا تو مشرف کو سزا دیں یا انہیں جانیں دیں۔ دوسرا جنرل ظہیر الاسلام کی مدت ملازمت میں یا تو توسیع کریں یا ان کو ہٹا دیں۔ اس کا ایک سادہ سا فارمولا ہے کہ وزیراعظم ایک سمری دیں کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے لئے نام دئے جائیں تاکہ وہ موجودہ ڈی جی کے ساتھ کچھ دن گزار کر معاملات کو بخوبی سمجھ سکیں۔ کیونکہ ملکی حالات اس وقت بہت ہی گھمبیر ہیں اور اگر میاں صاحب نے سیاسی بصیرت سے سوچا اور چوہدری نثار صاحب کی باتوں پر عمل کیا تو جنرل راحیل شریف کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں یہ بات طے ہو چکی ہو گی کہ دونوں لیڈروں کو باعزت واپسی کا راستہ دیا جائے گا۔ایک آخری بات جو کرنا چاہوں گا کہ ہر بڑے لیڈر کے ساتھ چند ایسے مشیر ہوتے ہیں جو اسے حالات کی سنگینی اور حقیقت حال سے آگاہ کرتے ہیں اور اس کے لئے راستہ نکالتے ہیں۔ اور ساتھ ہی پارٹیوں میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی ہر جگہ ایک عزت اور وقار ہوتا ہے۔ تاکہ اگر کبھی کوئی بحران آئے تو ان کو دوسروں کے پاس بھیجا جائے یہاں تک کہ مخالفین بھی کم از کم ان کی بات سنیں بدقسمتی سے پاکستان مسلم لیگ ن اس طرح کے دونوں لوگوں سے عاری ہے۔ اب اگر ایک چوہدری نثار صاحب کی فوج کے ساتھ بات ٹھیک ہے تو خدارا ان کی عزت کریں کیونکہ جو ان کو چلا رہے ہیں انہوں نے پیغام دے دیا ہے کہ وہ چڑیا سے باز مروانا جانتے ہیں باقی اللہ خیر کرے۔۔۔!

khurramiqbalawan@gmail.com, https://twitter.com/khurramiawan

Saturday, August 23, 2014

Hi Boby How Are You.............!



اے حقیقتِ منتظِر:  
از : خُرم اقبال اعوان
ہائے بوبی ہاؤ آر یو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
آج میرا سرنامہِ تحریر وہ جملہ ہے جو شیخ رشید احمد صاحب نے استعمال کیا۔ اور لوگ جانتے ہیں کہ "بوبی" کس شخصیت کا محبت سے پکارے جانے والا نام ہے۔ تحریر کے آخر میں بتاؤں گا کہ اِس سر نامے کی ضرورت کیوں تھی ۔
بات چیت کا وقت گزر گیا ہے اب کوئی بات چیت نہیں ہو گی، حکومت اگست کے آخر تک چلی جائے گی، نواز شریف ، شہباز شریف خود فیصلہ کر لیں کہ کہ پہلے کون جائے گا؟ یہ سب وہ بیانات ہیں جو کہ عمران خان صاحب اور ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے آرہے ہیں۔ طاہر القادری صاحب فرماتے ہیں کہ اگر مجھے گرفتار کر لیتے ہیں تو کارکن عمران خان کا ساتھ دیں کارکن میری پرواہ کئے بغیر عمران خان کے مارچ میں شامل ہوں۔یہ وہ بیان تھا جس نے قادری صاحب کی طرف سے عمران خان صاحب کی جانب بڑھتے ہوئے ہاتھ کا اشارہ دیا۔ پھر عمران خان نے ایک بیان دیا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو میرا بدلہ شریف خاندان سے لیا جائے اور یوم شہداء میں پاکستان تحریک انصاف کی شرکت کا اظہار کیا۔ پھر طاہر القادری صاحب نے آخر کار اپنے انقلاب مارچ کی تاریخ کا اعلان کر دیا جو کہ انہوں نے بھی 14 اگست ہی رکھی ہے یعنی حکومت کے لئے نہ شد دو شد پھر جس بیان کی جانب میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں وہ ہے طاہر القادری صاحب کا وہ جملہ جو انہوں نے انقلاب مارچ کی تاریخ کے اعلان کے آخر میں کہا کہ اگر مجھے کچھ ہو جائے تو شریف برادران کو میرے خون کے بدلے میں قتل کردینا یہ وہ موقع ہے جہاں آکر عمران خان اور طاہر القادری ایک ہو گئے۔ وزیر اعظم صاحب نے قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا جس میں پاکستان تحریک انصاف کا کوئی بھی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔ نواز شریف صاحب کہتے ہیں کہ حلقوں کی دوبارہ گنتی کے عمل پر بات چیت کرتے ہیں یعنی نواز شریف صاحب بھی بات چیت نہیں کرنا چاہتے دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے ایک عجیب فیصلہ سنایا ہے کہ کنٹینرز لگانے سے انسانی حقوق متاثر نہیں ہو رہے ہیں۔ دست بستہ عرض ہے جناب آپ انسان صرف اشرافیہ کو خیال کرتے ہیں جن کے آنے جانے کیلئے روٹ لگائے جاتے ہیں یا جو صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے اور جہازوں کے ذریعے آتے جاتے ہیں، شاید وہی انسان ہیں۔ ویسے ایسے فیصلوں سے محسوس ہوتا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ٹریبونل کیا کرتا ہو گا اور کیسا فیصلہ دے گا۔ میں طاہر القادری صاحب کے حق میں نہیں ہوں بالکل نہیں ہوں ان کی بہت سے باتوں سے مجھے بھی اختلاف ہیں مگر یوم شہداء منانے سے کون سی قیامت ٹوٹ پڑنی تھی کیا ہو جانا تھا، اگر ان کو یہ سب کرنے دیا جاتا اور کسی قسم کی روک ٹوک نہ کی جاتی تو کیا ہو جانا تھا؟  اگر ان کو ایسا کرنے میں آزادی دی جاتی اور ان کی حفاظت کی جاتی تو کیا برائی تھی؟
میں اپنے تمام تجزیہ کاروں سے سوال عرض کرنا چاہونگا جو کہ رہے ہیں کہ طاہر القادری کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے یہ ایک سیاسی طاقت نہیں ہے میں سوال کرنا چاہونگا کہ طالبان بھی سیاسی طاقت نہیں تھے وہ بھی اس سسٹم کو نہیں مانتے تھے بلکہ وہ تو آئین کو ہی نہیں مانتے تھے، ان سے مزاکرات کا سلسلہ کیوں شروع ہوا اور کیوں جاری رکھا گیا؟ کیوں اس کی کامیابی کیئے دعائیں کی گئیں۔ کیوں ان کو ہمارے بڑوں نے ناراض بچے کہ کر مخاطب کیا؟ کیا طاہر القادری کے یہ لوگ یہ پاکستانی شہری جنہوں نے ووٹ بھی دئیے ہونگے اس قابل بھی نہیں کہ انہیں یوم شہداء منانے دیا جائے۔ کیا ایک پر امن شہری طالبان سے زیادہ خطرناک ہے؟ کیا ایک پر امن رہنے والاووٹ دینے والا پاکستانی شہری اپنے ساتھ ہونے والی ذیادتی، اپنے حقوق نہ دیے جانے پر احتجاج اور وہ بھی پر امن احتجاج کا حق نہیں رکھتا؟ کیا اس کا ووٹ دینا اسے ملکی سیاست کا اس نظام کا حصہ نہیں بنا دیتا؟
کیا  ایک عام شہری کو اس نظام کی خامیاں اور نظام کو غلط ہوتا دیکھ کر آواز بلند کرنے کا حق نہیں ہے؟ اس پر اکثر جگہ سے آواز آتی ہے کہ اگر ہم انہیں یہ کرنے دیں تو یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا مگر یہ سب "اگر" سے مشروط ہے اور جب تک کچھ ہوتا نہیں اس کے بارے میں ہم میں سے کوئی بھی حتمی فیصلہ نہیں دے سکتا کیونکہ اس اگر مگر کے تمام مفروضے طالبان سے بات چیت کے تمام مراحل میں طے ہو چکے ہیں۔ بہت مرتبہ یہ بات کی گئی کہ ان سے بات کی تو جائے انہوں نے ایسا کہا تو نہیں نہ انہیں دیکھا جائے کہ وہ کرتے ہیں یا نہیں۔ تو ایک عام پاکستانی شہری کو اپنی بات کہنے کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا۔
میں یہ بات خود کہتا ہوں کہ طاہر القادری کچھ نہیں تھے مگر انہیں اس حکومتی مزاحمت نے کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونے میں تبدیل کر دیا ہے اگر آپ خوفزدہ نہیں ہیں تو روکتے کیوں ہیں۔ اگر ان کے مطالبات غلط ہیں تو ان کو روکنے کا یہ طریقہ درست نہیں بلکہ ان کو دباؤ بنانے کا موقع نہ دیں ان کے بنائے ہوئے پریشر کو نکلنے دیں۔ میں نے اپنے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ طاہر القادری صاحب کا کردار پاکستان کی سیاست میں ذیادہ نہیں دیکھ رہا۔ کیونکہ انہوں نے خان صاحب کی مزاحمت کی تحریک آزادی مارچ کو تیز کرنا ہے اور یہ بات انہوں نے اپنا فرضِ عین بنا رکھی ہے۔ تو آپ کی توجہ صرف عمران خان صاحب پر ہونی چاہئے۔ قومی سلامتی کانفرنس کو ہی لے لیجئے اس کانفرنس میں چوہدری نثار صاحب اور شہباز شریف صاحب شامل نہیں تھے کہا یہ گیا کہ بارش ہو رہی تھی اس وجہ سے جا نہیں سکے خیر یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔  چوہدری صاحب کے بارے میں ہم کچھ قیاس آرائیاں تو کر سکتے ہیں مگر شہباز شریف صاحب تو نواز شریف صاحب کے بھائی ہیں وہ تو ایسا نہیں کر سکتے خیر اس قومی سلامتی کانفرنس میں جو رویے سامنے آئے ہیں ان سے یہ کانفرنس بھٹو صاحب کی 1977 کی اس آخری میٹنگ کی یاد دلا رہی تھی جس میں انہوں نے بھی فوج کو ساتھ بٹھا کر فوٹو سیشن کروالیا تھا کیونکہ اسے اعتبار یا نیت کچھ کہ لیں جب اعتبار ٹوٹ جائے اور نیت بدل جائے تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔اور آج شاید اعتبار ٹوٹ چکا ہے ورنہ اس کانفرنس میں رویے اتنے سخت نہ ہوتے کہ چہروں سے عیاں ہو جائیں۔
مگر اب سوچنا یہ ہے کہ ہو گا کیا؟ ایک عام پاکستانی کو اس بات سے غرض نہیں ہے کہ حکومت جارہی ہے کہ نہیں ، نواز شریف ہے کہ عمران خان، قادری ہے یا کوئی اور۔ اس کا مطلب اِس کی غرض صرف دو وقت کی روٹی ہےاس کا مسئلہ بجلی ہے اس کا مسئلہ پانی ہے اس کا مسئلہ اس کے بچوں کا مستقبل ہے جو عوام کو یہ تمام  ضروریات دے گا  وہی اس کا مسیحا ہے، وہی اس کا نجات دہندہ ہے کیونکہ ہم نے اپنے ہر طرز عمل سے اس عوام کی آواز کی اہمیت ختم کر دی ہے ہم نے اس عام پاکستانی کو پہلے طبقات میں تقسیم کیا پھر اسے ختم کرنا شروع کر دیا اور آج بھی ہمارے اہل اقتدار ایک عام پاکستانی کو ایک کاغذ کے ٹکڑے (بیلٹ پیپر) سے زیادہ کی اہمیت نہیں دیتے۔
میں ان عام پاکستانیوں سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا کبھی انہوں نے عمران خان اور جناب طاہر القادری صاحب سے سوال کیا ہے کہ یہ نظام لپیٹ دیا جائے بخوشی لپیٹ دیں مگر اس کی جگہ کیا؟ کون آئے گا؟ کونسا نظام آئے گا؟ عمران صاحب اور طاہر القادری صاحب دونوں نے کوئی پلان آف ایکشن نہیں دیا اس نظام کے علاوہ کیا؟ نواز شریف حکومت چھوڑ دیں ، شہباز شریف پنجاب اسمبلی توڑ دیں تو کیا باقی صوبے بھی اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے؟ مڈ ٹرم الیکشن ہو ٹھیک، مگر کیسے آپ الیکشن کمیشن کی کسی بات کو اس وقت ماننے پر راضی نہیں ہیں۔ عمران خان صاحب کے بقول بہت سی الیکشن کی ریفارمز لازمی ہیں جن کے بغیر کسی بھی الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں میں یہ سب باتیں مان لیتا ہوں ۔ مگر یہ تو بتائیں کہ نواز شریف صاحب چلے جاتے ہیں ن لیگ کی حکومت چلی جاتی ہے تو پھر یہ ریفارمز کیا عبوری حکومت کرے گی۔ عبوری حکومت کے پاس اس طرح کے عوامل کا مینڈیٹ ہی نہیں ہوتا تو اس کے بغیر الیکشن کا فائدہ کچھ نہیں کیونکہ صرف ایک چھوٹی سی حقیقت اپنے پڑھنے والوں کی نظر کرنا چاہتا ہوں ۔ 2013 کے الیکشن میں ووٹر لسٹوں کا بھی بہت شور سنا گیا ہے کہ یہ لسٹیں اپ ڈیٹ نہیں ہوئیں ہیں اس میں بہت سی خرابیاں ہیں۔ اب الیکشن قوانیں کا کیا کیا جائے کہ جن میں یہ لکھا ہے کہ ہر سال ووٹر لسٹیں نئی مرتب ہونگی اور وہ بھی نادرہ کے ریکارڈ سے نہیں بلکہ گھر گھر جا کر مردم شماری کے انداز میں یہ فہرستیں مرتب کی جائیں۔ اب صرف اس ایک شق کو مکمل کرنے کے لئے کتنا عرصہ چاہئے کتنے لوگ درکار ہیں۔میری تحریر باشعور لوگ پڑھ رہے ہیں اس لئے مجھے مزید وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں۔ خان صاحب نے نہ تو اس بات پر اور نہ ہی مردم شماری کے ایشو پر کوئی بات کی ہے جو کہ عرصہ 16 سال سے رکی ہوئی ہے۔ شاید ان کی نظر میں نواز شریف صاحب اگر مستعفی ہو جاتے ہیں تو یہ سب کام خود بخود ہو جائیں گے۔
ان سب باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے میرا تخیل یہ کہتا ہے کہ ملکی نظام دوبارہ سے ایک خلا کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مگر قانون فطرت ہے کہ خلا نہیں رہ سکتا تو پھر کیا ہو گا؟ اور کون ہو گا جو اس خلا کو پر کرے گا؟ بہت آسانی سے سمجھ میں آنے والی بات ہے اگر ابھی الیکشن کروائے جاتے ہیں تو تمام کہی گئی باتیں جو الیکشن کمیشن ، الیکشن قوانین کے بارے میں کی گئی ہیں وہ سب اور ان قوانین میں تبدیلی یا قوانین کا اجراء کیسے ممکن ہو گا۔  ان تمام باتوں کو، تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو فعال بنانے عوامی فلاحی ریاست بنانے کے اقدامات اور ان اقدامات و قوانین پر عملدرآمد کے لئے ایک خاص عرصہ چاہئے تاکہ یہ قوانین یہ ادارے ایک خاص رنگ میں رنگے جائیں اور بظاہر تو وہ رنگ عوام کی فلاح و بہبود کا ہو گا اس میں فلاح کتنی ہوتی ہےاور عوامی بہبود کتنی ہوتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مگر اس سب کے بعد ہی الیکشن ہونا چاہئے ایک صورت اور ہو سکتی ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ کو بدل دیا جائے اور نئے سربراہ کی قیادت میں ادارہ نئے الیکشن کروائے مگر اس طرح سے عمران خان صاحب کے لئے اقتدار میں آنا ایک بار پھر مشکل نظر آتا ہے کیونکہ عوامی رد عمل یہی ہو گا کہ کیا سب کچھ نواز شریف کے جانے سے ٹھیک ہو گیا ہے۔
چیف آف آرمی سٹاف نے کور کمانڈر کانفرنس بلا لی ہے جس کے اختتام پر ایک حسب سابق عوامی اور معاملہ فہمی والا بیان دیا جائے گا جس سے عام تاثر یہی ملے گا کہ نواز شریف صاحب کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں جب کہ خاموشی ہی اصل خطرہ ہواکرتی ہے۔  سیاسی حکومت تو شاید قادری صاحب کو ان کے مداحوں  اور انقلاب مارچ کے شرکاء کے ساتھ لاہور سے جانے نہ دے جو کہ بہت نادانستگی ہو گی۔ اور اگر ایسا کیا گیا تو جگہ جگہ ہر بڑے شہر ہر بڑے علاقے میں احتجاج، دھرنا، جلاؤ، کھیراؤ اور انارکی کی صورت حال پیدا ہو جائے گی کیونکہ ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ جو قافلے لاہور آرہے تھے یوم شہداء کے لئے ان کو آنے نہیں دیا گیا اور قادری صاحب نے بھی ان کو واپس جانے کا کہا تھا۔ اس تعداد کو مد نظر رکھنا انتہائی لازم ہے کیونکہ اگر مختلف علاقوں میں انارکی پھیلے گی تو اثرات اسلام آباد تک بھی جائیں گے اور وہاں انارکی کا مطلب ہے کہ فوج سامنے آئے اور فوج اپنے ہم وطنوں پر نہ تو گولی چلاتی ہے اور نہ ہی انہیں مارتی ہے، کیونکہ  پھر وہ اپنے عزیز ہم وطنوں کس کو کہے گی۔ میں بار بار کہ رہا ہوں کہ اس بار میرے عزیز ہم وطنو نہیں ہو گا کچھ اور چہرے ہونگے جنہیں عرف عام میں ٹیکنو کریٹ کہا جاتا ہے۔  اس حکومت کا سربراہ کوئی وردی والا نہ ہو گا مگر وردی والے کے بغیر بھی نہیں ہو گا۔ اور اگر لاکھوں کے قریب پاکستانی اپنی ہی فوج کے سامنے ہوں تو شیخ صاحب باہیں کھول کر یہ جملہ کہنے میں حق بجانب ہونگے جس کا جواب بھی شاید خوش دلی سے آئے اور وہ جملہ ہے "ہائے بوبی ہاؤ آر یو"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
     

khurramiqbalawan@gmail.com, https://twitter.com/khurramiawan

This article is already published in Daily Pakistan few days back